نئی دہلی،14 ؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بہار میں آندھرا پردیش اور مغربی بنگال کی مچھلیوں کی فروخت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔محکمہ صحت نے اگلے 15 دنوں تک مچھلی کی فروخت پر پابندی لگا دی ہے۔فی الحال یہ پابندی پٹنہ میں رہے گی۔
بہار محکمہ صحت کے سکریٹری سنجے کمار نے پیر کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ گزشتہ دنوں آندھرا پردیش اور مغربی بنگال سے فروخت کے لئے آئیں مچھلیوں کے نمونوں کی جانچ کی گئی تھی۔تحقیقات میں یہ مچھلیاں کھانے کے قابل نہیں پائی گئی تھیں۔ایسی صورت میں یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔انہوں نے بتایاکہ پٹنہ کے 10 مختلف مقامات سے مچھلی کے نمونے لے کر کولکاتہ کے ایک لیب میں چیک کرنے کے لئے بھیجے گئے تھے۔اس جانچ میں 10 میں سے سات معاملوں میں فرمیلن اور دیگر نقصان دہ عنصر پائے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ فی الحال یہ پابندی صرف پٹنہ میں 15 دنوں کے لئے لگائی گئی ہے، اور اس کے بعد محکمہ صحت آگے کا فیصلہ لے گا۔ انہوں نے کہاکہ ان دو ریاستوں سے آنے والی مچھلیوں کے اسٹوریج اور نقل و حمل پر بھی پابندی ہے۔اگر آج سے پٹنہ میونسپل علاقے میں کوئی مچھلی فروخت کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے تو اسے سات سال کی سزا اور 10 لاکھ روپے کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس کے لئے پٹنہ ضلع مجسٹریٹ کو جانچ کا کام سونپا گیا ہے۔محکمہ صحت نے اسے لے کر حکم جاری کر دیا ہے۔اس کے لئے بیداری مہم بھی چلائی جائے گی۔ذرائع کے مطابق، فارمیلن کا جسم میں پہنچنا بہت نقصان دہ ہے۔اس کے اثر سے عمل انہضام میں خرابی آجاتی ہے اور پیٹ میں درد سے لے کر اسہال کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔اس سے گردے اور کئی بیماریوں سمیت کینسر کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔مچھلی کو سڑنے سے بچانے کے لئے بھی فارمیلن کا استعمال ہوتاہے۔مچھلیوں کو تازہ رکھنے کے لئے تاجرکیمیائی اجزافارمیلن کا لیپ لگا دیتے ہیں۔